سید علی عباس کا تعلق چشتیہ سلسلہ سے نسبت رکھنے والے خانوادہ (پیر سید حیدر شاہ) سے تھا جن کا شجرہ نسب 30 واسطوں سے حضرت علی ابن ابی طالب سے منسلک بتایا جاتا ہے۔1931ء میں سندر داس ہائی اسکول ڈنگہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج گجرات میں پڑھنے لگے، ان کے مضامین میں فلسفہ، انگریزی تاریخ اور فارسی شامل تھے۔ 1934ء میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لیا۔ ان کے اساتذہ میں مسٹر گیرٹ، مسٹر کھنہ، مسٹر ڈکنسن، مسٹر ھیچ اور جناب احمد شاہ پطرس بخاری شامل تھے۔ سید علی عباس جلالپوری کی والدہ کا نام فضل بیگم، تھا، نہایت مدبر، محنتی اور کم گو خاتون تھیں جس کی وجہ سے گھر کا ماحول پرامن رہتا تھا۔
ابھی بی اے میں زیر تعلیم تھے کہ والد صاحب انتقال فرماگئے، بی اے کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکے، مزید برآں ان کے سوتیلے رشتہ داروں کا ان کے ساتھ سلوک ناگفتہ بہ تھا۔ جلالپوری آبائی وطن جلالپور شریف سدھار گئے۔ خاندان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز عزیز و اقارب کی کمی نہ تھی مگر جلالپوری دیر تک وعدہ فروا پر بہلائے جاتے رہے، غالباً ان کی لیاقت اور خودداری حسد اور بغض کی بڑی وجہ تھی۔ دریں اثنا ان کے بچپن کے استاد خدا بخش کشمیری نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ بی ٹی کا کورس کرکے مدرس کے عہدے پر کام کریں اور سلسلہ حصول علم بھی جاری رکھیں۔ اس مخلصانہ مشورے کو پسند کرتے ہوئے جلالپوری نے45-1944ء میں گورنمنٹ سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ٹی کا کورس کیا۔ دوران تعلیم اپنے مہربان بزرگ سید کرم شاہ کے ہاں مقیم رہے۔ یہاں موسیقی کی محافل بپا رہتی تھیں۔ ایک پنڈت جی سے وائلن بجانا بھی سیکھا ۔ راگ ایمن، بھیرویں اور درباری خاص طور پر پسند کرتے تھے۔ ملکہ ترنم نور جہاں اگرچہ اس وقت کم سن تھیں مگر گائیکی میں توجہ جذب کر لیا کرتی تھیں ۔ ان کا ذکر انہوں نے اپنے مضمون ” یادوں کے چراغ“ میں کیا ہے جو کہ ” فنون“ کے ایک شمارے میں اشاعت پذیر ہوا۔ خواجہ خورشیدانور ان کے ہم جماعت تھے۔
3 اپریل، 11.5 ملین خفیہ دستاویزیں افشا، دنیا بھر کے اہم سیاست دانوں، کھلاڑیوں، حکومتی و کاروباری شخصیات کی غیر ظاہر شدہ 214,488 کمپنیوں کا راز افشا ہوا ہے۔
… کہ فرڈیننڈ میگلان نے پہلی بار کرہ ارض کا بحری چکر مکمل کرنے کی کوشش کی، مگر وہ فلپائن کے قریب مر گیا تو اس کے جہاز پر موجود ایک دوسرے مہم جو خوان سباسٹین ایلکانو نے اس بیڑے کی قیادت کی اور اس طرح وہ پہلا شخص بن گیا جس کی سرکردگی میں انسان نے زمین کے گرد پہلا بحری سفر مکمل کیا۔
… کہ ارشمیدس کی ایجاد کردہ توپیں اس قدر مضبوط تھیں کہ سیراکیوز کامحاصرہ کرنے والے جنرل کلاڈیس کو شہر پر قبضہ کرنے میں پورے تین سال لگے۔ سیراکیوز پر قبضہ کرنے کے بعد کلاڈیس نے ارشمیدس کومعاف کرنے کا حکم جاری کیا۔ لیکن ایک سپاہی نے اُسے غلطی سے قتل کر دیا۔
منتخب فہرست
صدر پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ہوتا ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق صدر کے پاس (عدالت عظمیٰ پاکستان کے منظور یا مسترد کرنے فیصلوں پر پابند، قومی اسمبلی کوتحلیل کرنے، نئے اتخابات کروانے اور وزیر اعظم کو معطل کرنے) جیسے اختیارات دئے گئے ہیں۔ان اختیارات کو فوجی بغاوتوں اور حکومتوں کے بدلنے پر بارہا مواقع پر تبدیل اور بحال کیا گیا۔ لیکن 2010ء کے اٹھارویں ترمیم کے ذریعہ پاکستان کو نیم صدراتی نظام سے دوبارہ پارلیمانی نظام، جمہوری ریاست کی جانب پلٹا گیا۔اس ترمیم کے تحت صدر کے اختیارات میں واضح کمی کی گئی اور اسے صرف رسمی حکومتی محفلوں تک محدود کیا گیا جبکہ وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ صدر کو پاکستانی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی پاکستان کی جماعت انتخاب کنندگان منتخب کرتی ہے۔
ویکیپیڈیا ایک آزاد بین اللسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ منصوبۂ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری 2001 میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجراء جنوری 2004ء میں عمل میں آیا ۔ فی الحال اس ویکیپیڈیا میں اردو کے 104,007مضامین موجود ہیں۔
عموماً کہا جاتا ہے: مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی لیکن درست جملہ یوں ہوگا: مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی اس لیے کہ: سمجھ کا مفہوم ہوتا ہے عقل و فہم، چنانچہ اگر مذکورہ غلط جملہ میں سمجھ کے بجائے عقل کا استعمال کریں تو جملہ یوں ہو جائے گا: مجھے اس بات کی عقل نہیں آئی، اور ظاہر ہے یہ جملہ درست نہیں ہے۔
نیز اردو میں سمجھ آنا محاورہ نہیں ہے، بلکہ سمجھ میں آنا محاورہ ہے اور یہی درست ہے۔
آج کی بات
انگریزی سے نابلد اردو پڑھنے وسمجھنے والوں کے لیے جدید معلومات کا حصول ممکن بنائیے!
ویکیپیڈیا صارفین وہ افراد ہیں جو ویکیپیڈیا میں اپنا کھاتہ بناتے ہیں، اس میں تدوین وترمیم کا کام کرتے ہیں اور دائرۃ المعارف کے مفاد کے خاطر اس کی تنسیق وترتیب، زمرہ بندی اور مقالات نویسی میں کوشاں ہیں۔ اور ویکیپیڈیا کو ہر لحاظ سے ایک آزاد دائرۃ المعارف کی شکل دینے کے لیے باہمی تعاون فراہم کرتے ہیں۔
اردو ویکیپیڈیا صارفین کی تعداد تاحال 52,838 ہوچکی ہے۔ تاہم ان میں سے ایک قلیل تعداد ہی مستقل پابندی سے اس منصوبہ میں شریک ہے۔ اور قلیل تناسب ایسے صارفین کا بھی ہے جو پابندی سے اس منصوبہ کی ترقی اور مضامین کی اصلاح پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف غیر اندراج شدہ ویکیپیڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس منصوبہ میں وقتاً فوقتاً شریک ہوتی ہے۔
کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟
اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت 104,007 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس صفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے حانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔
ویکیپیڈیا دنیا کی مختلف زبانوں میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔ اصل ویکیپیڈیا کا آغاز انگریزی میں 2001 (2001) میں ہوا۔ اردو ویکیپیڈیا فی الوقت 104,007 مضامین پر مشتمل ہے۔ بہت سے دیگر ویکیپیڈیا بھی موجود ہیں؛ جن میں سے کچھ بڑے ویکیپیڈیا درج ذیل ہیں: